اب کتے کورونا کے مریضوں کی شناخت کریں گے

اب کتے کورونا کے مریضوں کی شناخت کریں گے

ن لینڈ کے ایک ہوائی اڈے میں تربیت یافتہ کتوں کے ذریعے کرونا وائرس کے مریضوں کو سونگھ کر شناخت کرنے کا تجربہ شروع کیا جا رہا ہے۔

یہ منصوبہ ہیلسنکی ایئر پورٹ پر روبہ عمل ہو گا اور اسے اس ہفتے 16 کتوں کی مدد سے شروع کیا جائے گا، اور ہر شفٹ میں چار کتے استعمال ہوں گے۔یہ تجربہ یونیورسٹی آف ہیلسنکی کی ایک تحقیق کے بعد شروع ہو رہا ہے، جس سے ظاہر ہوا تھا کہ تربیت یافتہ کتے کو ڈو 19 کے مرض کو لگ بھگ سو فیصد درستگی سے سونگھ کر شناخت کر سکتے ہیں۔

ہوائی اڈے کے آپریٹر فن ایویا نے بھی کہا ہے کہ کتے بہت چھوٹے نمونے سے بھی کرونا وائرس کی تشخیص کر سکتے ہیں۔ انہیں وائرس کو شناخت کرنے کے لیے دس سے لے کر 100 مالیکیولز درکار ہوتے ہیں جب کہ پی سی آر ٹیسٹ کے لیے 18 لاکھ وائرسوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ہیلسنکی ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر اولا لیٹی جیف نے کہا، ’22 ستمبر سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ منفرد ہے اور دنیا میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ کسی اور ہوائی اڈے نے کو وڈ 19 کی تشخیص کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر کتوں کا استعمال نہیں کیا۔ یہ کو وڈ 19 کو شکست دینے میں ایک اضافی اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔‘کتوں اور مسافروں کے درمیان براہِ راست کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔ اس کی بجائے مسافروں سے کہا جائے گا کہ وہ  ایک ٹیسٹ وائپ کو اپنی جلد پر رگڑ کر دیں۔ کتے ان وائپس کو سونگھیں گے، اور اگر انہوں نے کسی مریض میں کرونا وائرس کی تشخیص کی تو اسے صحت کے مرکز پہنچا دیا جائے گا۔کتوں کو ’وائز نوز‘ نامی فنش ایجنسی نے تربیت دی ہے، جو بو کی شناخت میں مہارت رکھتی ہے۔

زیادہ تر کتے بوئیں سونگھنے کا سابقہ تجربہ رکھتے ہیں، اور ان کے پس منظر کی بنیاد پر ان کی کرونا وائرس وائرس کو شناخت کرنے کی تربیت کا وقت مختلف ہو سکتا ہے۔کوسی نامی ایک آٹھ سالہ گرے ہاؤنڈ کتے نے صرف سات منٹ میں کرونا وائرس کی بو شناخت کرنا سیکھ لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں