کھلاڑیوں کے لیے کورونا سے بھی بڑی مشکل کیا ہو سکتی ہے؟

آئی پی ایل: کھلاڑیوں کے لیے کورونا سے بھی بڑی مشکل کیا ہو سکتی ہے؟

آئی پی ایل: کھلاڑیوں کے لیے کورونا سے بھی بڑی مشکل کیا ہو سکتی ہے؟

کووِڈ 19 کی وبا کے اس دور میں کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کو منعقد کرانے کے لیے ہر طرح کے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ کھلاڑیوں کو محفوظ بائیو بلبل میں رکھنے سے لے کر ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں ہیں۔کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ابو ظہبی، شارجہ اور دبئی جیسے تینوں شہروں میں گرمی اور نمی بھی کھلاڑیوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر مواقع پر کھلاڑیوں کو 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کے درمیان کھیلنا ہو گا۔

میدان پر درجۂ حرات کی پریشانی کا ذکر رائل چیلنجرز کے سٹار پلیئر اے بی ڈویلیئرز نے آر سی بی کے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ویڈیو پوسٹ میں کیا ہے۔انھوں نے کہا: ‘سچ پوچھیں تو میں ایسے حالات میں کھیلنے کا عادی نہیں ہوں۔ یہاں بہت گرمی ہے۔ اور اس موسم نے مجھے جولائی میں چنائی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کی یاد دلادی ہے جس میں وریندر سہواگ ہمارے خلاف کھیلے اور 300 رنز بنائے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ گرم موسم کا تجربہ نہیں کیا تھا۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں