کووڈ 19 کی ویکسین

چین نے کورونا کی دوا تیار کرلی ،جلد ہی بازار میں ہوگی

رواں ماہ کے اوائل میں ایک بڑی اور مشہور چینی کمپنی کے سربراہ نے اپنے سٹاف کو بتایا کہ کووڈ 19 کی ویکسین نومبر تک مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی توقع ہے۔

ان کے اس تبصروں کو بذاتِ خود سننے والے ایک شخص نے بتایا کہ باس نے کہا کہ وہ اس موقعے کو اقتصادی بحالی کا ایک اشارہ اور اپنی فرمز کے کاروبار میں اضافے کے ایک موقعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔اس کمپنی کا اپنا ایک طبی مصنوعات کا ڈویژن بھی ہے۔

چند ہی ہفتوں میں چینی حکومت ویکسین پر اپنی پیش رفت سے عوام کو آگاہ کرنے پر مجبور ہوگئی۔ انسانوں میں کووڈ 19 وبا کا باعث بننے والا نوول کورونا وائرس چین میں انسانوں میں شروع ہوا جس کے بعد وہ تیزی سے دنیا بھر میں پھیلنے لگا۔ اب چین اپنی عالمی موجودگی کے ذریعے ایک مؤثر ویکسین بنانے اور اسے بازار تک پہنچانے کے لیے انتھک کوششوں میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ ہفتے چین کے سرکاری میڈیا میں ایک ویکسین دکھائی گئی: تصاویر میں ایک لیبارٹری میں کھڑی مسکراتی خاتون کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا برانڈڈ ڈبہ نظر آ رہا تھا۔ سائنوفارم کے مطابق اسے امید ہے کہ یہ ویکسین دسمبر تک مارکیٹ میں آ جائے گی۔ اس کے مطابق اس کی قیمت بھی 140 ڈالر کے لگ بھگ ہوگی۔

باضابطہ اور خفیہ آزمائشیں

ویکسین کی تیاری کے لیے چین کا عزم سب کے سامنے ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں جو چھ ویکسین آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزر کر بڑے پیمانے پر انسانی آزمائش کے مرحلے تک پہنچی ہیں، ان میں سے نصف چینی ہیں۔ یہ عالمی آزمائشیں ضرورت ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ چین اپنے ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر ویکسین ٹیسٹ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اپنے پاس وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں نہایت کامیاب رہا ہے۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کے سکول آف پبلک ہیلتھ کے پروفیسر بین کاؤلنگ کہتے ہیں کہ ویکسین تیار کرنے والی تمام کمپنیاں اپنے فیز تھری ٹرائل (آزمائش کا وہ مرحلہ جس میں ویکسین ہزاروں لوگوں کو دی جاتی ہے) کے لیے ایسی جگہیں تلاش کر رہے ہیں جہاں کووڈ 19 اب بھی نسبتاً بلند شرح سے پھیل رہا ہے۔انھیں ان تمام زیرِ تیاری ویکسینز بشمول چینی ویکسینز سے کافی امیدیں ہیں۔ ‘مجھے لگتا ہے کہ تیسرے مرحلے میں موجود تمام ویکسینز کے مؤثر ہونے کا کافی امکان موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں